Wednesday, 15 December 2021

پہلے چاہت کو تیز کر لے گا

 پہلے چاہت کو تیز کر لے گا

پھر وہ مجھ سے گریز کر لے گا

مسکرائے گا بات کرتے ہوئے

بات یوں معنی خیز کر لے گا

دو قدم ساتھ وہ چلے گا پھر

اپنی رفتار تیز کر لے گا

اس کو بیٹی کی شادی کرنی ہے

قرض لے کر جہیز کر لے گا

جب بھی آلودگی کو دیکھے گا

خود کو وہ عطر بیز کر لے گا

آئے گا مجھ سے دوستی کرنے

جب وہ ناخن کو تیز کر لے گا


حبیب کیفی

No comments:

Post a Comment