Wednesday, 15 December 2021

منتشر خاک کو آئینے سے نسبت کیا ہے

 منتشر خاک کو آئینے سے نسبت کیا ہے

اک تحیر کے سوا میری حقیقت کیا ہے

جو سفر اوڑھ کے نکلے ہیں وہی جانتے ہیں

دھوپ کے دشت میں سائے کی رفاقت کیا ہے

سونے لگتی ہوں تو جاگ اٹھتا ہے دردِ ہجراں

کیا بتاؤں کہ عذاب غمِ فرقت کیا ہے

ٹوٹ جائیں تو مکمل نہیں ہونے دیتی

جانے اس نیند کو خوابوں سے عداوت کیا ہے

درد جب جسم میں سرطان کی صورت پھیلا

تب کُھلا، ترکِ تعلق کی اذیت کیا ہے

بیچ دیتی ہیں کئی قیمتی یادیں اپنی

مائیں بچوں سے چھپاتی ہیں کے غُربت کیا ہے

روح کو کاٹ دیا کرتے ہیں ہجرت کے عذاب

جسم اور سانس ہوں تقسیم ضرورت کیا ہے

کوئی دیتا ہی نہیں حوصلائے دل کی داد

کس کو معلوم مِرے ضبط کی قوت کیا ہے

میرے اطراف ہے جس شخص کی خوشبو رقصاں

پوچھتا ہے کہ محبت کی علامت کیا ہے؟


پروین حیدر

No comments:

Post a Comment