منتشر خاک کو آئینے سے نسبت کیا ہے
اک تحیر کے سوا میری حقیقت کیا ہے
جو سفر اوڑھ کے نکلے ہیں وہی جانتے ہیں
دھوپ کے دشت میں سائے کی رفاقت کیا ہے
سونے لگتی ہوں تو جاگ اٹھتا ہے دردِ ہجراں
کیا بتاؤں کہ عذاب غمِ فرقت کیا ہے
ٹوٹ جائیں تو مکمل نہیں ہونے دیتی
جانے اس نیند کو خوابوں سے عداوت کیا ہے
درد جب جسم میں سرطان کی صورت پھیلا
تب کُھلا، ترکِ تعلق کی اذیت کیا ہے
بیچ دیتی ہیں کئی قیمتی یادیں اپنی
مائیں بچوں سے چھپاتی ہیں کے غُربت کیا ہے
روح کو کاٹ دیا کرتے ہیں ہجرت کے عذاب
جسم اور سانس ہوں تقسیم ضرورت کیا ہے
کوئی دیتا ہی نہیں حوصلائے دل کی داد
کس کو معلوم مِرے ضبط کی قوت کیا ہے
میرے اطراف ہے جس شخص کی خوشبو رقصاں
پوچھتا ہے کہ محبت کی علامت کیا ہے؟
پروین حیدر
No comments:
Post a Comment