یہ کہہ رہا ہے کوئی میرے ساتھ جل جاؤ
تم اپنے دائرۂ ذات سے نکل جاؤ
بکھیر دو مِری موجِ نفس میں نغمے سے
مِرے لہو میں کوئی گیت بن کے ڈھل جاؤ
سبھی درخت نئے برگ و بار لائے ہیں
سلامتی سے سوا ہے شکستگی کا نشہ
پگھل رہے ہو تو سوچو نہیں، پگھل جاؤ
کسی کو راس نہیں جن محبتوں کی فضا
تم اس فضا میں بہت دور تک نکل جاؤ
اب اس ہوا سے گزر جاؤ ایک بار ہی شوقؔ
یہ کیا کہ تم کبھی بکھرو، کبھی سنبھل جاؤ
رضی اختر شوق
No comments:
Post a Comment