Friday, 13 November 2015

یہ کہہ رہا ہے کوئی میرے ساتھ جل جاؤ

یہ کہہ رہا ہے کوئی میرے ساتھ جل جاؤ
تم اپنے دائرۂ ذات سے نکل جاؤ
بکھیر دو مِری موجِ نفس میں نغمے سے
مِرے لہو میں کوئی گیت بن کے ڈھل جاؤ
سبھی درخت نئے برگ و بار لائے ہیں
بدل رہی ہے ہوا، تم بھی اب بدل جاؤ
سلامتی سے سوا ہے شکستگی کا نشہ
پگھل رہے ہو تو سوچو نہیں، پگھل جاؤ 
کسی کو راس نہیں جن محبتوں کی فضا
تم اس فضا میں بہت دور تک نکل جاؤ
اب اس ہوا سے گزر جاؤ ایک بار ہی شوقؔ
یہ کیا کہ تم کبھی بکھرو، کبھی سنبھل جاؤ

رضی اختر شوق

No comments:

Post a Comment