Friday, 13 November 2015

یہ نخل جاں کا ثمر تلخ عمر بھر کا ہے

یہ نخلِ جاں کا ثمر تلخ عمر بھر کا ہے
نہ پوچھ ہم سے کہ کیا ذائقہ ہنر کا ہے
ہجومِ سنگ میں بھی اس خیال سے خوش ہوں
کہ میری ذات سے اک جشن رہگزر کا ہے
جو مثلِ خاک سرِ رہگزار بیٹھے ہیں
ابھی نظر میں کوئی سانحہ سفر کا ہے
عجب تھے شہرِ چراغاں کے دیکھنے والے
دھویں کی سمت نہ دیکھا کہ کس کے گھر کا ہے
ابھرتی دھوپ میں میں بھی ذرا سی دیر کو ہوں
مِرا وجود بھی سایہ سا رہگزر کا ہے
دِیے جلے ہیں مگر دل بجھے بجھے سے ہیں شوقؔ
بہت دنوں سے یہ منظر ہمارے گھر کا ہے

رضی اختر شوق

No comments:

Post a Comment