واپسی
دکھ کے پھول، بدی کے شعلے، سکھ کی گھاس
سب بکواس
لرمنتوف اور دوستوفسکی، بودلئیر اور استاں دال
ایک سے ایک وبال
گوتم بدھ اور افلاطون
محض جنون
آنکھیں کھول نہ اندھا بن
تن اور من ہے تیرا دھن
تارے چھوڑ، زمیں کو دیکھ
اس کے ساتھ بندھے ہیں لیکھ
محنت کر اور روٹی کھا
آجا بھائی واپس آ
میں نے سب کو چھوڑ دیا
میں لوٹ آیا
خاک سے ناطہ جوڑ لیا
میں گھر آیا
روٹی، پانی، دودھ اور مکھن
میرا جیون
نانک دیو اور بلھے شاہ
سیدھی راہ
مجھ کو مٹی پیاری ہے
پیارا ہر نر ناری ہے
دن بھر محنت کرتا ہوں
اور راتوں کو سوتا ہوں
تنہائی میں روتا ہوں
زاہد ڈار
No comments:
Post a Comment