یادوں کا میلہ
پچھلے تیس برس میں، میں نے
گئے ہوؤں پر لکھے کالم
کل یونہی جب جمع کیے تو کیا کیا چہرے
بھیگتی آنکھوں کے صحرا میں پھیل گئے
یک دم جیسے یادوں کا اک میلہ سا آباد ہوا
ایسی تھی وہ بِھیڑ کہ مجھ کو سچ مُچ گِنتی بُھول گئی
گئے ہوؤں کی قبروں پر یہ پھول چڑھانا
واجب تھا پر
جتنی ان کی یادیں ہیں اب اتنے پھول کہاں ہوتے ہیں
کب یہ درد بیاں ہوتے ہیں
سونے جیسے ان لوگوں سے پھر سے ملنا
اور اک ایسی بِھیڑ میں ملنا
روکے سے جو رک نہ سکے اور پل پل بڑھتی جاتی ہو
بامِ فلک پر جیسے ہر سُو
رنگوں سے معمور ستارے جگمگ جگمگ کرتے ہوں
اور آنکھ سنورتی جاتی ہو
ایسا اک احساس تھا جس کی ٹھنڈک بے اندازہ تھی
رنگ محل میں کُھلنے والا جیسے اک دروازہ تھی
لیکن اس سے کہیں زیادہ
ان کی آنکھوں میں لہراتی وہ گہری تسکین تھی جس سے
سارا منظر مہک رہا تھا
ہر اِک چہرہ دمک رہا تھا
"میخانہ وہ اب بھی کُھلا ہے جس میں وہ خود ساقی ہیں"
"ان کی یاد میں جینے والے لوگ ابھی تک باقی ہیں"
امجد اسلام امجد
No comments:
Post a Comment