Sunday, 11 April 2021

جس دن میرے دیس کی مٹی

 زوال کا دن


جس دن میرے دیس کی مٹی

کومل مٹی

پتھر بن کر

محلوں اور قلعوں کے روپ میں ڈھل جائے گی

اس دن گندم جل جائے گی

جس دن میرے دیس کے دریاؤں کا پانی

ٹھنڈا پانی

بجلی بن کر

شہروں کی کالی راتوں کی زینت کا سامان بنے گا

اس دن چاند پگھل جائے گا

جس دن کھیتوں کی خاموشی

بوجھل دھات کی آوازوں میں کھو جائے گی

اس دن سُورج بُجھ جائے گا

جیون کی پگڈنڈی اس دن سو جائے گی


زاہد ڈار

No comments:

Post a Comment