Sunday, 11 April 2021

بے سبب تو نہیں کھڑے ہوئے ہیں

 بے سبب تو نہیں کھڑے ہوئے ہیں

پاؤں زنجیر میں پڑے ہوئے ہیں

دھوپ چھاؤں سے تو ڈرا نہ ہمیں

ہم اسی کھیل میں بڑے ہوئے ہیں

خوف آنے لگا ہے خود سے بھی

فیصلے چار کیا کڑے ہوئے ہیں

تُو حسیں ہے تو یہ نہیں مطلب

ہم کسی غیر کے گھڑے ہوئے ہیں

پیشگی شرط ہی نہ تھی کوئی

لوگ کس بات پر اڑے ہوئے ہیں

آندھیوں کو بھی یہ نہیں معلوم

پھول کس شاخ سےجھڑےہوئے ہیں

وقت آگے نکل گیا ہم سے

ہم جہاں تھے وہیں کھڑےہوئے ہیں

زندگی!! یوں نہ پیش آ جیسے

تیرے قدموں میں ہم پڑے ہوئے ہیں


اختر ملک

No comments:

Post a Comment