بے سبب تو نہیں کھڑے ہوئے ہیں
پاؤں زنجیر میں پڑے ہوئے ہیں
دھوپ چھاؤں سے تو ڈرا نہ ہمیں
ہم اسی کھیل میں بڑے ہوئے ہیں
خوف آنے لگا ہے خود سے بھی
فیصلے چار کیا کڑے ہوئے ہیں
تُو حسیں ہے تو یہ نہیں مطلب
ہم کسی غیر کے گھڑے ہوئے ہیں
پیشگی شرط ہی نہ تھی کوئی
لوگ کس بات پر اڑے ہوئے ہیں
آندھیوں کو بھی یہ نہیں معلوم
پھول کس شاخ سےجھڑےہوئے ہیں
وقت آگے نکل گیا ہم سے
ہم جہاں تھے وہیں کھڑےہوئے ہیں
زندگی!! یوں نہ پیش آ جیسے
تیرے قدموں میں ہم پڑے ہوئے ہیں
اختر ملک
No comments:
Post a Comment