آنکھ کی پرتیں کھلیں اور تیرگی محسوس ہو
کرب کی حالت میں جیسے اک نمی محسوس ہو
اے مصور! ایک ایسی پینٹنگ تخلیق کر
اک مسلسل شور ہو، اور خامشی محسوس ہو
میں تمہارے بعد ہجر و وصل کو یکجا کروں
غم اگرچہ کم نہ ہو لیکن خوشی محسوس ہو
کوزہ گر مجھ کو دوبارہ چاک پر رکھ اور گھما
تب تلک جب تک کہ مجھ کو پختگی محسوس ہو
تم سے ملنے کی سہولت بھی مِرے کس کام کی
وصل میں بھی جب مجھے تیری کمی محسوس ہو
علی رضا
No comments:
Post a Comment