مت سمجھنا گرے پڑے ہوئے ہیں
اپنے قدموں پہ ہم کھڑے ہوئے ہیں
ہم تِرے شہر میں نئے تو نہیں
ہم اسی شہر میں بڑے ہوئے ہیں
در حقیقت وہ بات ہے ہی نہیں
آپ جس بات پر اڑے ہوئے ہیں
عشق کی منزلیں ہمیں نہ بتا
ہم یہ سب سیڑھیاں چڑھے ہوئے ہیں
ٹُوٹے شیشوں کی طرح ہم یارو
اس کی دیوار پر جَڑے ہوئے ہیں
چار دن جس جگہ قیام کیا
حادثے اس جگہ بڑے ہوئے ہیں
چھوڑ عمران، عشق کے قصے
یہ فسانے ہیں جو گھڑے ہوئے ہیں
عمران مفتی
No comments:
Post a Comment