Sunday, 11 April 2021

گونجتے گرجتے ہوئے راستے پر ایک عورت

 گونجتے گرجتے ہوئے راستے پر ایک عورت

گھر کی قید سے بھاگی ہوئی عورت

گرد سے اٹی ہوئی

تھکی ہوئی اور ڈگمگاتی ہوئی

اداس اور پریشان

دنیا کے اجنبی اور بے رحم راستے پر

ایک عورت

ماضی سے نالاں اور بے زار

مستقبل سے بے خبر

حال کے جنگل میں اکیلی

ایک عورت

ہر طرف لوگوں کے ہجوم

ہر طرف شور ہی شور

لیکن اس کے اندر خاموشی ہے

گونجتا گرجتا ہوا سناٹا

وہ عورت کہاں جائے گی

کیا وہ ڈر جائے گی


زاہد ڈار

No comments:

Post a Comment