Sunday, 11 April 2021

جواب ایسا تراشو سوال جلتا رہے

 جواب ایسا تراشو سوال جلتا رہے

یقیں کی آگ میں ہر احتمال جلتا رہے

اسی لیے تو بکھیری ہے سورجوں نے تپش

محیطِ دشت کسی کا خیال جلتا رہے

ابھی نئی نئی شہرت ہے شاعری میں مِری

عروج ابھی وہ کہاں کہ زوال جلتا رہے

بدلتی رُت کے بدلتے اصول اپناؤ

فراق ایسا نبھاؤ وصال جلتا رہے

کچھ اس طرح سے لکھو آج بیش و کم کا نصاب

تعلقات میں ہر اعتدال جلتا رہا

اب اس طرح کی تمازت اتار سانسوں میں

بس اک گھڑی کے جہنم میں سال جلتا رہے

تمام دن میں ہوائیں سنبھالتا ہوں جبھی

چراغ رات کو ہو کر بحال جلتا رہے

بس ان لبوں سے تقاضا ہے اب یہی عباس

اک ایسا لمس عطا ہو کہ گال جلتا رہے


حیدر عباس

No comments:

Post a Comment