پتھروں سے واسطہ ہونا ہی تھا
دل شکستہ آئینہ ہونا ہی تھا
میں بھی اس کو پُوجتا تھا رات دن
آخر اس بُت کو خدا ہونا ہی تھا
مسندوں پر ہو گئے قابض یزید
اس نگر کو کربلا ہونا ہی تھا
جلد بازی میں کِیا تھا فیصلہ
سو غلط وہ فیصلہ ہونا ہی تھا
ایک ہی چہرہ تھا میرے سامنے
پیار اس سے برملا ہونا ہی تھا
اب مجھے افسوس کیوں رہنے لگا
وہ ملا تھا تو جدا ہونا ہی تھا
تیرا چہرہ جب نہیں تھا سامنے
آئینوں کو بے صدا ہونا ہی تھا
بولتا عمران جب کوئی نہیں
خامشی کو تو صدا ہونا ہی تھا
عمران شناور
No comments:
Post a Comment