Sunday, 11 April 2021

پتھروں سے واسطہ ہونا ہی تھا

 پتھروں سے واسطہ ہونا ہی تھا 

دل شکستہ آئینہ ہونا ہی تھا 

میں بھی اس کو پُوجتا تھا رات دن 

آخر اس بُت کو خدا ہونا ہی تھا 

مسندوں پر ہو گئے قابض یزید 

اس نگر کو کربلا ہونا ہی تھا 

جلد بازی میں کِیا تھا فیصلہ

سو غلط وہ فیصلہ ہونا ہی تھا

ایک ہی چہرہ تھا میرے سامنے

پیار اس سے برملا ہونا ہی تھا

اب مجھے افسوس کیوں رہنے لگا

وہ ملا تھا تو جدا ہونا ہی تھا

تیرا چہرہ جب نہیں تھا سامنے

آئینوں کو بے صدا ہونا ہی تھا

بولتا عمران جب کوئی نہیں

خامشی کو تو صدا ہونا ہی تھا


عمران شناور

No comments:

Post a Comment