کر سکی جب نہ تم پر اثر شاعری
میں نے پھر چھوڑ دی بے اثر شاعری
میرے شعروں سے نظریں چُراتے ہو کیوں
میں تو کرتی ہوں بس بے ضرر شاعری
دل کی حسرت کو آہوں کو کرتی بیاں
میری بے تابیوں کا ثمر شاعری
عہد آدھے ادھورے سے کچھ خواب ہیں
کچھ جفا کچھ وفا کا نگر شاعری
گاہے لکھتے ہوئے، گاہے پڑھتے ہوئے
دل دُکھائے مِرا، کس قدر شاعری
غم کے اظہار کا ہے سلیقہ سخن
درد لکھنے کا اعلیٰ ہنر شاعری
کیا یہ ارض و سما، کیا یہ دشت و دمن
آب و گل شاعری، بحر و بر شاعری
میں چھپوں دل سے، دل میرا مجھ سے چھپے
مجھ کو مجھ سے کرے باخبر شاعری
ہے یہ سوچوں کی پرواز کی رازداں
میرے خوابوں خیالوں کا گھر شاعری
راز اندر کے سب کو بتانے لگی
ہوگئی کس قدر، پرخطر شاعری
مجھ سے لکھنے کی جب ہر وجہ چھن گئی
کیسے کرتی رہوں عمر بھر شاعری
میں تھی تنہا، میں تنہا ہوں، تنہا سدا
میری رہبر، مری ہمسفر شاعری
کوئی ہمراز میرا نہ اس کے سوا
میری محرم میری چارہ گر شاعری
عنبرین جمیل خان
No comments:
Post a Comment