مہماں ہوئے ہیں آج وہ گھر مدتوں کے بعد
آہوں میں آ گیا ہے اثر مدتوں کے بعد
الفت میں بارہا بہائے ہیں ہم نے اشک
شامل ہوا ہے خونِ جگر مدتوں کے بعد
پوشیدہ ان کو رکھا ہے پتلی میں آنکھ کی
دیکھا ہے ان کو بارِ دِگر مدتوں کے بعد
معکوس آئینہ بھی ہے قلب و نظر بھی ہیں
دیکھی گئی ہے ایسی نظر مدتوں کے بعد
قیدِ عکس میں یونہی تبسم پڑی رہی
شکلِ رہائی آئی نظر مدتوں کے بعد
واجدہ تبسم
No comments:
Post a Comment