Sunday, 13 March 2022

عشق میں کچھ اس طرح دیوانگی چھائی کہ بس

 عشق میں کچھ اس طرح دیوانگی چھائی کہ بس

کوچۂ ارباب دل سے یہ صدا آئی کہ بس

جب قدم دیوانگی کی حد سے آگے بڑھ گئے

دیکھنے والوں کو مجھ پر وہ ہنسی آئی کہ بس

بوئے مشکیں مسکرائی پھول خوشبو لے اڑے

اس سراپا ناز کی یوں زلف لہرائی کہ بس

دیکھ کر وہ بانکپن وہ حسن وہ رنگیں شباب

دل کی حسرت نے بھی آخر لی وہ انگڑائی کہ بس

ہم سے کچھ بھی ہو نہ پائی احتیاط دلبری

اپنی کوتاہی پہ ایسی آنکھ شرمائی کہ بس

لے کے ساغر ہاتھ میں ہم چل پڑے جب اے مبین

مےکدے میں اک فضا کچھ ایسی لہرائی کہ بس


مبین علوی خیرآبادی

No comments:

Post a Comment