زندگی کی خالی آسامی کے لیے ایک درخواست
آج پرچم کے نیچے ایک لاش کو
رکھ کر پرچم کو پوری طاقت سے
لہرا دیا گیا پرچم کے سائے جتنی
حب الوطنی ایک لاش پر پینٹ کر دی گئی
ہمارے لوگ اپنے ہی گھروں
کا راستہ معلوم کرتے ہوئے
نہیں معلوم کس طرف نکل
جاتے ہیں کہ جہاں سے ان
کی خبر بھی اپنے گھر کے دروازے
پر دستک دیتے ہوئے سہم جاتی ہے
خفیہ ایجنسی کے کارندے
آج بھی بلوچستان کا رقبہ
کاٹ کر ہماری قبروں پر
پھینک رہے ہیں اور
اتنی زیادہ مٹی ڈل جانے
کے باوجود بھی نہیں معلوم کیوں
ہماری قبریں بلند اور دور
سے دکھائی نہیں دیتیں
ہم کہہ رہے ہیں کہ انسانی حقوق کا رنگ
ہمارے قومی پرچم سے زیادہ
گہرا ہے مگر رنگ بنانے والے
اپنے ٹیڑھے ہاتھوں سے
پرچم پر ایک لاش جتنی
رنگین لکیر کھینچ کر
ہمارے دعوے کو مسترد
کر دیتے ہیں
بلوچ باپ کو کیوں اپنے ورثے
میں ایک کچے گھر کے علاوہ
یتیمی بھی اپنے بچوں میں برابر
تقسیم کرنی پڑتی ہے
خالی گھر ہمارے آخری لواحقین ہیں
جنہیں عدالت میں کوئی رٹ
دائر کرنے کی اجازت نہیں ملے گی
اور گھر یقیناً نہیں جانتے کہ سپریم کورٹ
کا احاطہ اتنا وسیع ہے کہ جس میں اگر
کوئی کچا مکان لڑکھڑاتا ہوا پہنچ بھی جائے
تو ٹائپ رائٹر اس کچے گھر کو جان بوجھ
کر غلط ٹائپ کر جائے گا
ہمارے گھر اور ہماری قبر میں پڑی لاش
کا ڈی این اے ایک جیسا نہ آنے کی وجہ سے
ہماری پٹیشن کو خارج کر دیا جائے گا
کندھوں پر اب اتنے ستارے سج چکے ہیں کہ
روزانہ کی بنیادوں پر ہمارے گھر ایک
مکمل رات اتاری جا سکتی ہے
مدثر عباس
No comments:
Post a Comment