Tuesday, 4 January 2022

مکمل رات اتاری جا سکتی ہے

 زندگی کی خالی آسامی کے لیے ایک درخواست


آج پرچم کے نیچے ایک لاش کو

رکھ کر پرچم کو پوری طاقت سے

لہرا دیا گیا پرچم کے سائے جتنی

حب الوطنی ایک لاش پر پینٹ کر دی گئی

ہمارے لوگ اپنے ہی گھروں

کا راستہ معلوم کرتے ہوئے

نہیں معلوم کس طرف نکل

جاتے ہیں کہ جہاں سے ان

کی خبر بھی اپنے گھر کے دروازے

پر دستک دیتے ہوئے سہم جاتی ہے

خفیہ ایجنسی کے کارندے

آج بھی بلوچستان کا رقبہ

کاٹ کر ہماری قبروں پر

پھینک رہے ہیں اور

اتنی زیادہ مٹی ڈل جانے

کے باوجود بھی نہیں معلوم کیوں

ہماری قبریں بلند اور دور

سے دکھائی نہیں دیتیں

ہم کہہ رہے ہیں کہ انسانی حقوق کا رنگ

ہمارے قومی پرچم سے زیادہ

گہرا ہے مگر رنگ بنانے والے

اپنے ٹیڑھے ہاتھوں سے

پرچم پر ایک لاش جتنی

رنگین لکیر کھینچ کر

ہمارے دعوے کو مسترد

کر دیتے ہیں

بلوچ باپ کو کیوں اپنے ورثے

میں ایک کچے گھر کے علاوہ

یتیمی بھی اپنے بچوں میں برابر

تقسیم کرنی پڑتی ہے

خالی گھر ہمارے آخری لواحقین ہیں

جنہیں عدالت میں کوئی رٹ

دائر کرنے کی اجازت نہیں ملے گی

اور گھر یقیناً نہیں جانتے کہ سپریم کورٹ

کا احاطہ اتنا وسیع ہے کہ جس میں اگر

کوئی کچا مکان لڑکھڑاتا ہوا پہنچ بھی جائے

تو ٹائپ رائٹر اس کچے گھر کو جان بوجھ

کر غلط ٹائپ کر جائے گا

ہمارے گھر اور ہماری قبر میں پڑی لاش

کا ڈی این اے ایک جیسا نہ آنے کی وجہ سے

ہماری پٹیشن کو خارج کر دیا جائے گا

کندھوں پر اب اتنے ستارے سج چکے ہیں کہ

روزانہ کی بنیادوں پر ہمارے گھر ایک

مکمل رات اتاری جا سکتی ہے


مدثر عباس

No comments:

Post a Comment