ب کا بنجارن
دور کھڑی اک سوگوار
درخت کے سائے تلے
چولی دامن اور گھونگھٹ سے
چہرہ چھپائے ہوئے
اگنی پریکشا دئیے
من کے پیر جلائے ہوئے
میدان، جنگل، صحرا
دریا عبور کر کے آئی
سوگ میں ڈوبی
پنگھٹ میں دیپ جلائی
سردی، گرمی، خزاں
ہو یا بہار آئی
ممکن نہیں آسماں اس کو میسر
اک دلِ ناداں پہ اپنی ہستی کو مٹاتی رہی
اور پہاڑوں، ندیاں
نگر نگر گھوم کر بتاتی رہی
جس شہر کے باسی سے
ع کا عشق تھا
اسی باسی نے مجھے
ب کا بنجارن کر دیا
ناز بارکزئی
No comments:
Post a Comment