Sunday, 19 December 2021

میں اپنے پر بھی اڑانیں بھی خود بناؤں گی

 میں اپنے پر بھی اُڑانیں بھی خُود بناؤں گی

نشانہ لیتی کمانیں بھی خود بناؤں گی

ہوا سے فیض کی امید تک نہیں مجھ کو

سو اونچی نیچی اُڑانیں بھی خود بناؤں گی

میں حرفِ لکھوں گی پہلے ورق پہ گھائل سا

پھر اس کی زخم کی تانیں بھی خود بناؤں گی

مکالمہ بھی نیا ہو گا آپسی سب کا

جہانِ نَو کی زبانیں خود بناؤں گی

میں مُنہدم کروں گی سب غنیم دیواریں

قلعے کے گِرد چٹانیں بھی خود بناؤں گی

ہنسی کو میں نے ہی شو کیس میں سجا دیا تھا

اور اب خوشی کی دُکانیں بھی خود بناؤں گی

کہیں سے ملتے ہیں پاتال اب تعلق کے

میں یہ عمیق ڈھلانیں بھی خود بناؤں گی


مہناز انجم

No comments:

Post a Comment