Sunday, 19 December 2021

اندھیرا جس کو دنیا کہہ رہی ہے

 اندھیرا جس کو دنیا کہہ رہی ہے

اُجالوں کی عدم موجودگی ہے

نظر آتا ہے جو کچھ آئینے میں

اسی کا نام شاید آدمی ہے

نشے جیسا کوئی گزرا تھا کل شب

گلی مدہوش ہو کر مُڑ گئی ہے

پھنسے تھے لِفٹ میں ہم اتفاقاً

وہیں پر زندگی رُک سی گئی ہے

اندھیروں نے کیا تھا چاند اغواء

تعاقب میں ابھی تک روشنی ہے

بدن صحرا میں سرگرداں لہو ہے

ہماری خاک چھانی جا رہی ہے


شہزور خاور

No comments:

Post a Comment