Sunday, 19 December 2021

ہوا کرے جو اندھیرا بہت گھنیرا ہے

 ہُوا کرے جو اندھیرا بہت گھنیرا ہے

کسی کی زُلف تلے ہر سمے سویرا ہے

حکایتِ لب و رُخسار میں گزار دیں وقت

جہاں میں صرف گھڑی دو گھڑی بسیرا ہے

جلاؤ گھر کی منڈیروں پہ چشم و دل کے دیے

بہاؤ گیت بِرہ کے بہت اندھیرا ہے

وہ محتسب ہو کہ شحنہ کہ مفتی و قاضی

ہمارا کوئی نہیں ہے ہر ایک تیرا ہے

مِرے دماغ کے خنّاس نے پسند کیا

کھنڈر کے ہفت بلاؤں کا جس میں ڈیرا ہے

میں برگِ زرد ہوں، شایانِ التفات نہیں

حسین گُل کو حسیں تتلیوں نے گھیرا ہے


گیان چند جین

No comments:

Post a Comment