Sunday, 19 December 2021

فکر منزل سے پرے سود و زیاں سے آگے

 فکرِ منزل سے پرے، سُود و زیاں سے آگے

وادئ عشق ہے کیوں اور کہاں سے آگے

عشق کے در پہ ملی راحتِ ایمان و یقیں

عقل بڑھتی ہی نہ تھی وہم و گماں سے آگے

درگہِ حُسن میں ٹوٹے ہوئے لفظوں پہ نہ جا

لطفِ اظہار ہے الفاظ و بیاں سے آگے

جس جگہ فکر کی پرواز بھی دم توڑ گئی

ہے ترےﷺ علم کا فیضان وہاں سے آگے

کیسے معلوم ہو تجھ کو کہ مسرت کیا ہے

تُو نے دیکھا ہی نہیں عمرِ رواں سے آگے

کرب و حسرت کی قلم رو تھی تِرے غم سے اِدھر

چین ہی چین ہے بس اب تو یہاں سے آگے


مفتی تقی عثمانی

No comments:

Post a Comment