Sunday, 19 December 2021

ساتھ جاتی ہیں نگاہیں وہ جدھر جاتے ہیں

 ساتھ جاتی ہیں نگاہیں وہ جدھر جاتے ہیں

یوں بھی لمحات جدائی کے گزر جاتے ہیں

ان کو موسم کے تغیر نے ٹھہرنے نہ دیا

اور ہم پوچھ نہ پائے کہ کدھر جاتے ہیں

حسن کو آئینہ کہہ دیتے ہیں کچھ لوگ مگر

آئینہ سامنے رکھ دو تو بگڑ جاتے ہیں

آج آنچل میں گِرہ ڈال لی ہم نے سلمیٰ

کیونکہ ہر بار وہ وعدے سے مُکر جاتے ہیں


سلمیٰ حجاب

No comments:

Post a Comment