ساتھ جاتی ہیں نگاہیں وہ جدھر جاتے ہیں
یوں بھی لمحات جدائی کے گزر جاتے ہیں
ان کو موسم کے تغیر نے ٹھہرنے نہ دیا
اور ہم پوچھ نہ پائے کہ کدھر جاتے ہیں
حسن کو آئینہ کہہ دیتے ہیں کچھ لوگ مگر
آئینہ سامنے رکھ دو تو بگڑ جاتے ہیں
آج آنچل میں گِرہ ڈال لی ہم نے سلمیٰ
کیونکہ ہر بار وہ وعدے سے مُکر جاتے ہیں
سلمیٰ حجاب
No comments:
Post a Comment