Wednesday, 15 December 2021

ستمگروں نے تراشا ہے اک بہانہ نیا

 ستمگروں نے تراشا ہے اک بہانہ نیا

جلایا جائے گا پھر کوئی آشیانہ نیا

وہی حکایت مجبورئ بشر کہ جو تھی

نہ کوئی دام نیا ہے، نہ آب و دانہ نیا

خدا نہیں ہو، خدائی پہ اختیار تو ہے

کسے مجال کہ اب ڈھونڈے آستانہ نیا

حریف موجۂ طوفاں ہے میری تشنہ لبی

کوئی سنے تو ذرا ان سے شاخسانہ نیا

سمندروں کی روانی پہ دسترس ان کی

ہوائیں ڈھونڈتی پھرتی ہیں اب ٹھکانہ نیا

تمہارے عہد حکومت میں کس کی ہمت ہے

لگائے فکر کے صحرا میں شامیانہ نیا

جو متحد ہوں تو قطرے بھی اک سمندر ہیں

سنے گا کون مگر حرف محرمانہ نیا؟


عاشور کاظمی

No comments:

Post a Comment