Wednesday, 15 December 2021

بے دلی میں بھی دل بڑا رکھنا

 بے دلی میں بھی دل بڑا رکھنا

یہ دریچہ سدا کھلا رکھنا

رات کے سحر میں ہے سارا نگر

اپنے گھر کا دِیا جلا رکھنا

یہ گھڑی صبر آزما ہو گی

زندہ رہنے کا حوصلہ رکھنا

ساری خوشیاں وفا نہیں کرتیں

درد سے دل کو آشنا رکھنا

بھول کر بھی نہ دل پہ میل آئے

آئینہ یہ سدا دُھلا رکھنا

سینچ کر خوں سے ایک اک لمحہ

پیڑ پت جھڑ میں بھی ہرا رکھنا

پھل کبھی تو کھلائے گی یہ ہوا

اپنی نیّت کا آسرا رکھنا


سرمد صہبائی

No comments:

Post a Comment