رستہ تکتا دروازہ
جس کی آنکھیں پتھر ہو گئیں
کتنے دسمبر بیت گئے
کتنی بہاریں لَوٹ گئیں
جانے والے بُھول گئے
دُور کہیں اک دروازہ ہے
جس کی اوٹ میں جنت تھی
جس کے لبوں پر یہی دعا تھی
"جیون جوگے رج رج جی لے"
سات سمندر پار کی پریاں جن کو رستہ بُھلا دیتی ہیں
پھر وہ کبھی واپس نہیں آتے
شازیہ مفتی
No comments:
Post a Comment