Wednesday, 15 December 2021

کتنے دسمبر بیت گئے

 رستہ تکتا دروازہ


جس کی آنکھیں پتھر ہو گئیں

کتنے دسمبر بیت گئے

کتنی بہاریں لَوٹ گئیں

جانے والے بُھول گئے

دُور کہیں اک دروازہ ہے

جس کی اوٹ میں جنت تھی

جس کے لبوں پر یہی دعا تھی

"جیون جوگے رج رج جی لے"

سات سمندر پار کی پریاں جن کو رستہ بُھلا دیتی ہیں

پھر وہ کبھی واپس نہیں آتے


شازیہ مفتی

No comments:

Post a Comment