تنہائی کے لیے تنہا ہونا ضروری نہیں
تنہائی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے
اور پھیلتی چلی جاتی ہے
کبھی نہ ختم ہونے کے لیے
وہ کتنے خوش رہتے ہیں
جو مل کر بھی نہیں ملتے
اور دلوں میں جھانکنے کی زحمت نہیں کرتے
دل کا دل سے
روح کا روح سے
اور شریر کا شریر سے ملنا
یہ سب تنہا ہونے کے جتن ہیں
پتا نہیں
محبت تنہائی کے بغیر ادھوری ہے
یا تنہائی محبت کے بغیر
لیکن ہم جہاں جاتے ہیں
اپنی تنہائی ساتھ لے جاتے ہیں
اور جہاں ٹکتے ہیں
یہ ہمارے بیچ یا کہیں آس پاس
کنڈل مار کر بیٹھ جاتی ہے
گاہے زیادہ
گاہے کم ہونے سے
تنہائی کے اعداد و شمار میں فرق نہیں پڑتا
یہ گنتی میں ستاروں کی طرح بے حساب
رقبے میں آسمان جیسی بے کنار
اور حجم میں کائنات سے بڑی ہے
تنہائی کا محلِ وقوع بیان کرنا مشکل ہے
نصیر احمد ناصر
No comments:
Post a Comment