Wednesday, 15 December 2021

تنہائی کے لیے تنہا ہونا ضروری نہیں

 تنہائی کے لیے تنہا ہونا ضروری نہیں


تنہائی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے

اور پھیلتی چلی جاتی ہے

کبھی نہ ختم ہونے کے لیے

وہ کتنے خوش رہتے ہیں

جو مل کر بھی نہیں ملتے

اور دلوں میں جھانکنے کی زحمت نہیں کرتے

دل کا دل سے

روح کا روح سے

اور شریر کا شریر سے ملنا

یہ سب تنہا ہونے کے جتن ہیں

پتا نہیں

محبت تنہائی کے بغیر ادھوری ہے

یا تنہائی محبت کے بغیر

لیکن ہم جہاں جاتے ہیں

اپنی تنہائی ساتھ لے جاتے ہیں

اور جہاں ٹکتے ہیں

یہ ہمارے بیچ یا کہیں آس پاس

کنڈل مار کر بیٹھ جاتی ہے

گاہے زیادہ

گاہے کم ہونے سے

تنہائی کے اعداد و شمار میں فرق نہیں پڑتا

یہ گنتی میں ستاروں کی طرح بے حساب

رقبے میں آسمان جیسی بے کنار

اور حجم میں کائنات سے بڑی ہے

تنہائی کا محلِ وقوع بیان کرنا مشکل ہے


نصیر احمد ناصر

No comments:

Post a Comment