لبوں سے گو ابھی کہتے نہیں ہو
محبت تم بھی کم کرتے نہیں ہو
شجر پر دیکھ کے خوش ہو رہے ہو
ثمر کو توڑ کر چکھتے نہیں ہو
میں تم پہ رک گئی ہوں جھیل جیسے
مگر دریا ہو تم،۔ رکتے نہیں ہو
محبت! تجھ کو اشکوں سے بھی سینچا
وہ پودے ہو کہ جو بڑھتے نہیں ہو
بہت مغرور ہوتے جا رہے ہو
یہ کیا کہ بات بھی کرتے نہیں ہو
سبھی سے دوسراہٹ ہو رہی ہے
مگر تم دوسرے لگتے نہیں ہو
مِری آنکھوں سے خود کو دیکھ لینا
کسی ہیرو سے کم لگتے نہیں ہو
تمہیں یوں بھی تو مر جانا ہے اک دن
ثمینہ پر مگر مرتے نہیں ہو
ثمینہ ثاقب
No comments:
Post a Comment