Wednesday, 15 December 2021

لبوں سے گو ابھی کہتے نہیں ہو

 لبوں سے گو ابھی کہتے نہیں ہو

محبت تم بھی کم کرتے نہیں ہو

شجر پر دیکھ کے خوش ہو رہے ہو

ثمر کو توڑ کر چکھتے نہیں ہو

میں تم پہ رک گئی ہوں جھیل جیسے

مگر دریا ہو تم،۔ رکتے نہیں ہو

محبت! تجھ کو اشکوں سے بھی سینچا

وہ پودے ہو کہ جو بڑھتے نہیں ہو

بہت مغرور ہوتے جا رہے ہو

یہ کیا کہ بات بھی کرتے نہیں ہو

سبھی سے دوسراہٹ ہو رہی ہے

مگر تم دوسرے لگتے نہیں ہو

مِری آنکھوں سے خود کو دیکھ لینا

کسی ہیرو سے کم لگتے نہیں ہو

تمہیں یوں بھی تو مر جانا ہے اک دن

ثمینہ پر مگر مرتے نہیں ہو


ثمینہ ثاقب

No comments:

Post a Comment