میں کسی کی رات کا تنہا چراغ
اتنا سننا تھا کہ پھر مہکا چراغ
طاق جاں کی گُل ہوئی افسردگی
آس نے اُمید کا رکھا چراغ
اندرونِ ذات تک کھلتا ہوا
جسم کے جنگل میں اک اُگتا چراغ
دو ستارے جڑ کے یکجا ہو گئے
آخر شب ڈوب کر اُبھرا چراغ
خواب میں دونوں نے دیکھی روشنی
نیند میں مل بانٹ کر ڈھونڈا چراغ
تیرگی کے دائرے میں رکھ گیا
ایک سایہ آ کے پھر جلتا چراغ
ساحلوں کی نظر کر آئی ہوا
منتوں کا ایک من چاہا چراغ
لو کوئی تجسیم کر پایا کہاں
موم بن کر رات بھر پگھلا چراغ
نیم وا آنکھوں سے مجھ کو دیکھ کر
گُل ہوا جاتا ہے اک بوڑھا چراغ
شمائلہ بہزاد
No comments:
Post a Comment