Friday, 4 June 2021

ملا تھا کیسے بچھڑ گیا ہے یہ بات چھوڑو

 ملا تھا کیسے بچھڑ گیا ہے یہ بات چھوڑو

یہ حادثہ کب کا ہو چکا ہے یہ بات چھوڑو

ہمیں تو عجز و نیاز کا کوئی گر بتاؤ

کہاں پہ بندہ خدا بنا ہے یہ بات چھوڑو

کسی کی چوکھٹ کو چومنا تو نہیں ہے سجدہ

یہ شرک کس کا گھڑا ہوا ہے یہ بات چھوڑو

تمہارا فتنہ بنام اللہ اٹھا ہوا ہے

ہماری شہہ رگ میں بھی خدا ہے یہ بات چھوڑو

ہماری صف میں ہمارے یاروں سے کون آیا

عدو کے لشکر میں وہ کھڑا ہے یہ بات چھوڑو

ہماری غزلوں سے مہک سونگھو اسی کی ہے نا؟

وہ گل بدن اب کدھر کھلا ہے یہ بات چھوڑو

تمہاری راہ میں ہزار خوشیاں بچھی ہوئی ہیں

ہمارا دل کب کہاں دُکھا ہے یہ بات چھوڑو

ہمارے شعروں کو داد دو گر سمجھ گئے ہو

یہ فن کہاں سے عطا ہوا ہے یہ بات چھوڑو

خدا نے سب کا بھرم رکھا ہے یہی بہت ہے

کسی میں کتنی یہاں وفا ہے یہ بات چھوڑو


نجم الحسن نجمی

No comments:

Post a Comment