Monday, 7 June 2021

اداسی کے دلدل میں گرتا ہوا دل

 اداسی کے دلدل میں گرتا ہوا دل

بچاؤں میں کیسے یہ مرتا ہوا دل

میں اس کی محبت میں لبریز دریا

وہ مجھ میں اتر کے ابھرتا ہوا دل

ستارے خلا سے ابھی توڑ لاؤں

مگر آسماں سے یہ ڈرتا ہوا دل

کبھی تم نے دیکھا ہے بولو بتاؤ

کسی آئینے میں سنورتا ہوا دل

عیاں اس کی آنکھوں کی شفافیت میں

دُھلے پانیوں سا نکھرتا ہوا دل

اٹکتا، سنبھلتا، سنبھل کے ٹھہرتا

کٹھن راستوں سے گزرتا ہوا دل

جتن لاکھ کر لو نہ آئے گا قابو

ہے اک موجِ سرکش بپھرتا ہوا دل


شمائلہ بہزاد

No comments:

Post a Comment