پرائے شہر میں اک آشنا میسر ہو
میں چاہتا ہوں کوئی آئینہ میسر ہو
بچھڑ بھی جائیں تو اک دوسرے کو دیکھ سکیں
کہ دوریوں میں بھی اک رابطہ میسر ہو
فضائے سبز بناؤں فسردہ عالم میں
جو آسماں سے الگ ہو، جدا میسر ہو
میں کم نصیب مِرے دن بھی رات جیسے ہیں
چراغِ حرف ہی جلتا ہوا میسر ہو
بہنام احمد
No comments:
Post a Comment