Monday, 7 June 2021

پرائے شہر میں اک آشنا میسر ہو

 پرائے شہر میں اک آشنا میسر ہو

میں چاہتا ہوں کوئی آئینہ میسر ہو

بچھڑ بھی جائیں تو اک دوسرے کو دیکھ سکیں

کہ دوریوں میں بھی اک رابطہ میسر ہو

فضائے سبز بناؤں فسردہ عالم میں 

جو آسماں سے الگ ہو، جدا میسر ہو

میں کم نصیب مِرے دن بھی رات جیسے ہیں

چراغِ حرف ہی جلتا ہوا میسر ہو


بہنام احمد 

No comments:

Post a Comment