Monday, 7 June 2021

جسم کیا دل تک نکھرتے جا رہے ہیں

 جسم کیا دل تک نکھرتے جا رہے ہیں

جیسے جیسے تیری جانب آ رہے ہیں

کھیت کھلیانوں کی خوشبو ہو سلامت

ہم تِری قدرت سے خود کو پا رہے ہیں

کوئی متبادل نہیں تیرا مِری جاں

لوگ اب کس بات کو سُلجھا رہے ہیں

خامشی نے شور کی جانب دھکیلا

مست ہیں تیری وفا میں گا رہے ہیں

سال کیا اب زندگی اچھی ملے گی

مالکِ کُن مجھ کو سب سمجھا رہے ہیں

آگ سے وہ مجھ کو تازہ کر رہا

پھول میری طشتری مہکا رہے ہیں


تجدید قیصر

No comments:

Post a Comment