Monday, 12 July 2021

اسی در سے اسی دیوار سے آگے نہیں بڑھتا

 اسی در سے اسی دیوار سے آگے نہیں بڑھتا

یہ کیسا پیار ہے جو پیار سے آگے نہیں بڑھتا

ہماری خواہشیں اظہار کی حد تک نہیں جاتیں

ہمارا حوصلہ دیدار سے آگے نہیں بڑھتا

ہماری زندگی میں ایک سُستی سی مسلسل ہے

ہمارا خون اس رفتار سے آگے نہیں بڑھتا

ہماری زندگی لوگوں میں رہ کر بھی اکیلی ہے

ہمارا راستہ بازار سے آگے نہیں بڑھتا

عجب اک قحط ہے اس آنکھ میں تیرے حوالے سے

چھلک کر اشک بھی رخسار سے آگے نہیں بڑھتا

ہماری جستجو ہے، ہم تِرے اقرار تک پہنچیں

ہمارا خواب اک انکار سے آگے نہیں بڑھتا

ہماری سوچ تیری گردِ پا کو چُھو نہیں سکتی

ہمارا ذہن اس آزار سے آگے نہیں بڑھتا

ہماری آرزو ذیشان پوری ہی نہیں ہوتی

ہمارا مسئلہ اخبار سے آگے نہیں بڑھتا


ذیشان مہدی

No comments:

Post a Comment