Tuesday, 15 March 2022

سخن جو مرا اب سہارہ ہوا ہے

 سخن جو مِرا اب سہارہ ہوا ہے


سخن کا عجب اک بسیرا ہے مجھ میں 

کوئی بات کہدوں نظم بن کے نکلے

عجب طور سے دُھن غزالوں کی مجھ میں 

عجب اک محبت کی دُھن لے کے نکلے

عجب طور سے اک عجب طرز لے کر 

زباں سے مِری رونما یوں ہے ہوتی

کہ جیسے مجھے ہی زمانے کے غم سب

مجھے چار جانب سے گھیرے ہوئے ہیں

کہ جیسے مِرا آشیانہ جلا ہے 

محبت کی مجھ پر ہی بجلی گری ہے

کہ جیسے فقط میں ہی رسوا ہوا ہوں

کہ جیسے مِرا ہی زمانہ گیا ہے

عجب طور سے اک عجب طرز مجھ میں عیاں یوں ہے ہوتی

مجھے یوں ہے لگتا کہیں دور سے 

اک عجب سی خلش کو محبت ہوئی ہے مِرے ساتھ ایسی

کہ جیسے ہوئی تھی مجھے ایک دل سے

حسیں خوبرو سے، میں ہر روز جس کے لیے ہی تھا جیتا

مجھے یوں ہے لگتا خلش کو بھی ایسی محبت ہوئی ہے

جو دل میں مِرے یہ بسیرا کیے ہے

یہی سوچنے پر میں مجبور ہوں یوں کہ 

جیسے کسی کا گماں تُل گیا ہو بغاوت پہ اس سے

مِرا بھی گماں مجھ سے ایسے کئی طور سے ہی 

سوالوں جوابوں کا مجھ پر اک ملبہ گرائے ہوئے ہے

مِری ضد نہیں تو مرا پیار ہے وہ 

کہانی سنائے یہی جا رہی ہے

عجب سی خلش ہے مجھے بھا رہی ہے

سہانے سہانے کئی خواب مجھ کو دکھا کر 

وہ پھر سے منا یوں رہی ہے

خسارے لیے ہاتھ میں کہہ رہی ہے 

محبت ہے تجھ سے تِری آنکھ سے 

اور تِری اس نظم سے

مجھے فقط اتنا پتہ بس لگا ہے

سخن کا عجب اک بسیرا ہے مجھ میں

مجھے اس جہاں سے اذیت ملی ہے

تبھی تو خلش سے محبت ہوئی ہے

رُکن بن گیا ہوں اذیت کا میں بھی

مجھے بھی خلش سے محبت ہوئی ہے

اگر یوں ہوا ہے ہوا کیوں یہ کیسے

اسی اک حماقت میں اب کٹ رہی ہے

سزا ہے عجب جو مجھے مل رہی ہے

سہولت ختم شد محبت ختم شد ہوئی جا رہی ہے

نظم اک خسارہ لیے آ رہی ہے

مگر کب کسے بھا رہی ہے

نظم کا بھی اب تو شمارہ ہوا ہے 

بڑا بے رحم سا جسارہ ہوا ہے

مطلب مِرا یہ خسارہ ہوا ہے

سخن جو مِرا اب سہارا ہوا ہے


معاذ فرہاد

No comments:

Post a Comment