Tuesday, 15 March 2022

کچھ اس پہ سوچنا تھا مشورہ بھی کرنا تھا

 کچھ اس پہ سوچنا تھا مشورہ بھی کرنا تھا

معاملے پہ ابھی تبصرہ بھی کرنا تھا

اسے بھی کہنا تھا اپنا خیال رکھنے کو

بچھڑتے وقت مجھے حوصلہ بھی کرنا تھا

کسی کے نام کے دن بھی بچا کے رکھنے تھے

اور ایک زندگی سا سلسلہ بھی کرنا تھا

وہ واقعات بھی دل سے مجھے بھلانے تھے

کہیں کہیں پہ رقم سانحہ بھی کرنا تھا

کہاں پہ آ کے کڑی سلسلے کی ٹوٹ گئی

کسی سے میں نے کہیں رابطہ بھی کرنا تھا

اسی مقام پہ عکس اپنے میں نے دفنائے

جہاں پہ نسب مجھے آئینہ بھی کرنا تھا

ابھی تو بات کا میں کر رہی تھی اندازہ

پہنچ کے تہہ میں مجھے فیصلہ بھی کرنا تھا

نکل کے زندگی جیسی کڑی حقیقت سے

مجھے تو تلخ سا اک تجربہ بھی کرنا تھا

سنی ہیں اس کی ابھی تک شکایتیں میں نے

بیان اپنا کوئی مسئلہ بھی کرنا تھا

نکالنا تھی مجھے زندگی بھی مشکل سے

مکمل اب کے کوئی دائرہ بھی کرنا تھا


یاسمین سحر

No comments:

Post a Comment