Tuesday, 15 March 2022

الوداعی ملاقات کے بعد

 الوداعی ملاقات کے بعد

بے یقینی کے زینے پہ چلتے ہوئے

اس نے باہر قدم جو نکالا

تو کیفے کی دیوار سے دیکھتی 

مونا لیزا کے چہرے پہ 

صدیوں سے پھیلا تبسم بھی

اک پل کو گہنا گیا

ٹینا ثانی کی آواز کے سائے میں

اس کے ہونٹوں کی جنبش

سرابوں سی محسوس ہونے لگی

اس کی آنکھوں پہ چھائی ہوئی دھند

چاروں دِشاؤں میں اڑنے لگی

بے یقینی کا زینہ قدم در قدم 

اس کے پیروں کے ہمراہ بڑھنے لگا 

آہ کھینچی اور اس نے

دو عالم کی ساری اداسی کو 

اپنے بدن میں سمیٹا تو سوچا کہ

کہرہ اداسی کا ہمزاد ہے

یک بہ یک

ضبط کی آمریت کے باغی

کسی خواب نے

اس کی پلکوں کے زندان سے

 کود کر خود کشی کی تو

مفرور آنسو قطاریں بنا کر نکلنے لگے

گول چکر پہ روشن کسی قمقمے کے 

اجالے میں گیندے کے پھولوں نے

جب اس کے گالوں پہ گرتی ہوئی

اَوس دیکھی تو مرجھا گئے 

سرمئی گھاس نے 

سال کی آخری شام

میں آج پہلی دفعہ 

اس کو خاموش دیکھا

تو نم ہو گئی

چاروں جانب اترتی ہوئی دھند نے 

خود کو کچھ اور بوجھل کی

اس کو لوگوں کی نظروں سے اوجھل کیا

اور وہ لڑکی کہیں کھو گئی

 

عدنان محسن

No comments:

Post a Comment