مکالماتی غزل
وہ کہتی ہے
تمہیں کیا فرق پڑتا ہے میرے ہونے نا ہونے سے
میں کہتا ہوں؛ ہاں آخر میں تیرا لگتا ہی کیا ہوں
وہ کہتی ہے؛ تمہارے جاگنے کا راز کیا ہے
میں کہتا ہوں؛ میری نیندیں لے اڑا کوئی
وہ کہتی ہے؛ ہم دونوں کے درمیاں کون ہے تیجھا
میں کہتا ہوں؛ ہمارے درمیاں تیجھی محبت ہے
وہ کہتی ہے؛ اپنے دل کے راز افشاں کرو مجھ پر
میں کہتا ہوں؛ مرے دل کی باتیں یوں بھی تُو جان لیتی ہو
وہ کہتی ہے؛ کرو وعدہ کبھی تنہا نہ چھوڑو گے
میں کہتا ہوں؛ بھلا کیسے میں خود کو چھوڑ سکتا ہوں
وہ کہتی ہے؛ تمہارے خیال مجھے سونے نہیں دیتے
میں کہتا ہوں؛ کچھ دیر میں خیال اپنے سنبھال لیتا ہوں
وہ کہتی ہے؛ کچھ دیر اور رہ لو پاس میرے تم
میں کہتا ہوں؛ میں یوں بھی تیرے پاس ہی رہتا ہوں
وہ کہتی ہے؛ محبت کی لگی ہے آگ دونوں جانب ہی
میں کہتا ہوں؛ اسے پھر تم بجھا کیوں نہیں دیتی
وہ کہتی ہے؛ تمہارا اقرار کرنا مجھے اچھا لگتا ہے
میں کہتا ہوں؛ میں پاگل ہوں نہیں اظہار کر سکتا
وہ کہتی ہے؛ محبت ہے تو عیاں کیوں نہیں کرتے
میں کہتا ہوں؛ مجھے چرچا گیری اچھی نہیں لگتی
وہ کہتی ہے؛ میری باتیں ہمیشہ یاد رکھنا تم
میں کہتا ہوں؛ بھلا کیسے میں تجھ کو بھول سکتا ہوں
وہ کہتی ہے؛ اگر اجازت ہو تو کچھ کہہ لوں
میں کہتا ہوں؛ میں منتظر ہوں تمہاری آواز سننے کا
وہ کہتی ہے؛ محبت میں کیا غضب چوٹ کھائی ہے
میں کہتا ہوں؛ محبت کر کے ہی تو مجھے عقل آئی ہے
وہ کہتی ہے؛ چھوڑو ماضی کے خیالوں میں جینا تم
میں کہتا ہوں؛ تو پھر آؤ ہم دونوں نئی دنیا بناتے ہیں
معاذ فرہاد
No comments:
Post a Comment