کہانی کا یہی کردار اب تک بچ نہیں پایا
کہ میرا کوئی بھی غمخوار اب تک بچ نہیں پایا
کوئی بیماری گر ہوتی دوا دارو کیا جاتا
جسے ہو عشق کا آزار، اب تک بچ نہیں پایا
خدارا ضبط کر لو تم کہ نعرہ حق کا جس نے بھی
لگایا بر سرِ بازار، اب تک بچ نہیں پایا
جمال اب چھوڑ بھی دو پیروی تم عقل والوں کی
محبت میں کوئی ہشیار، اب تک بچ نہیں پایا
حسیب جمال
No comments:
Post a Comment