Friday, 9 July 2021

کہانی کا یہی کردار اب تک بچ نہیں پایا

 کہانی کا یہی کردار اب تک بچ نہیں پایا

کہ میرا کوئی بھی غمخوار اب تک بچ نہیں پایا

کوئی بیماری گر ہوتی دوا دارو کیا جاتا

جسے ہو عشق کا آزار، اب تک بچ نہیں پایا

خدارا ضبط کر لو تم کہ نعرہ حق کا جس نے بھی

لگایا بر سرِ بازار، اب تک بچ نہیں پایا

جمال اب چھوڑ بھی دو پیروی تم عقل والوں کی

محبت میں کوئی ہشیار، اب تک بچ نہیں پایا


حسیب جمال

No comments:

Post a Comment