تمہاری خوشبو ہماری سانسوں کی پردہ گاہوں تک آ گئی ہے
دلِ حزیں کے اجاڑ کوچوں میں اس کے آنے سے زندگی ہے
ہمارے لہجے کو، دل گرفتہ پکار کو تم یونہی نہ سمجھو
ہزار چیخیں ہوئی ہیں بیوہ تو خامشی کو زباں ملی ہے
اب ایسا ہو گا ہماری روحیں غذا میں لاشیں طلب کریں گی
ہم ایسے عہدِ رواں کا حصہ ہیں جس کا خاصہ درندگی ہے
یہ میرے چہرے پہ نوجوانی کی عارضی سی بناوٹیں ہیں
حقیقتاً تو یہ روح بالکل نحیف اور بوڑھی ہو چکی ہے
ہماری اس حسن تک رسائی بس اک جھلک پر ہی مشتمل تھی
سو ہم نے آنکھیں جھپک لیں اور اس کی ایک تصویر کھینچ لی ہے
ہماری آنکھوں میں جھلملاتے ہوئے دِیے ہیں بہت مقدس
کسی مسافر کے لوٹ آنے کی ایک امید روشنی ہے
مقدس ملک
No comments:
Post a Comment