Friday, 9 July 2021

حسن کی کم نہ ہوئی گرمی بازار ہنوز

 حُسن کی کم نہ ہوئی گرمئ بازار ہنوز

نقدِ جاں تک لیے پھرتے ہیں خریدار ہنو

طائرِ جاں قفسِ تن سے تو چُھوٹا، لیکن

دامِ گیسُو میں کسی کے ہے گرفتار ہنوز

ساتھ چھوڑا سفرِ مُلکِ عدم میں سب نے

ساتھ لپٹی ہی رہی حسرتِ دیدار، ہنوز

اپنی عیسیٰ نفسی کی بھی تو کچھ شرم کرو

چشمِ بیمار کے بیمار ہیں، بیمار ہنوز

ہم بھی تھے روزِ ازل صحبتئ بزمِ الست

بُھولتی ہی نہیں وہ لذتِ گُفتار ہنوز

کیا خراباتیوں کو حضرتِ آسی نہ ملے

کہ سلامت ہے وہی جبہ و دستار ہنوز 


آسی غازیپوری

ﺁﺳﯽ ﻏﺎﺯی پوﺭﯼ

No comments:

Post a Comment