Friday, 9 July 2021

وصل کے تین مہکتے ہوئے دن

 وصل کے تین مہکتے ہوئے دن


وصل

ہر اک عاشق کی اک دیرینہ خواہش

یہ مِرا عاشقوں سا دل بھی تِرے وصل کو ڈھونڈے 

کوئی سے تین مہکتے ہوئے دن

وہ جس میں پہلے ہی دن تو کسی حیلے بہانے سے 

مجھے ملنے کو بلائے اور مِرے خالی ہاتھوں پہ 

کوئی پیارا سا تحفہ رکھ دے

وقتِ شفق ہو اور بارش کی برستی بوندوں میں 

تُو میرے ساتھ چہل قدمی کرتا رہے 

اور دن ختم ہو جائے

دوسرے دن میں تیرے ساتھ 

تری چائے کے ٹیبل پر آ بیٹھوں

تُو مجھ کو اپنے لبوں سے لگا چائے کا کپ پیش کرے 

پر اس کو پینے کی میری کبھی بھی ہمت نہ ہو

اور پھر یوں ہی باتوں باتوں میں پھر دن ختم ہو جائے

تیسرے دن میں تیرے واسطے صبح سویرے 

اپنے کانپتے ہاتھوں سے ناشتہ لے کر آؤں

تُو مِرے کانپتے ہاتھوں پر ہنستے ہوئے مجھ کو تسلی دے 

اور ساتھ خدا حافظ کہتے ہوئے اپنی منزل کو چل نکلے

یوں آخر کو وصل کے تین مہکتے ہوئے دن پورے ہوں 

پھر چاہے ہجر کی لمبی رات کی تاریکی چھا جائے

تیرے میرے بیچ جدائی آ جائے


اویس رشید

No comments:

Post a Comment