میں نے یہ داؤ ویسے چلایا نہیں کبھی
اس کو فلک سے کھینچ کے لایا نہیں کبھی
میں ہوں بھی یا نہیں ہوں، ابھی فیصلہ کرو
یہ راز تم نے مجھ کو بتایا نہیں کبھی
مجھ کو نہیں ہے اپنی خبر مانتا ہوں میں
مجھ کو کسی نے مجھ سے ملایا نہیں کبھی
ہاں، ٹھیک ہے حسین نظر آ گیا تو کیا؟
میں جانتا ہوں خود کو سجایا نہیں کبھی
تم اس کی ہو گئی ہو تو کیا سر کو پھوڑنا
میں بھی تو تم کو مانگنے آیا نہیں کبھی
جانے کہاں سے آتا ہے ہر روز بے خطر
میں نے تو غم کو پاس بلایا نہیں کبھی
ہر لمحہ تیری یاد میں ہوتا ہے یوں بسر
لمحوں سے کوئی لمحہ چُرایا نہیں کبھی
تعریف ہو رہی ہو جہاں میرے شعر کی
خود اپنے آپ کو وہیں پایا نہیں کبھی
شرمندہ ہے یہ اپنی مگن زندگی کہ میں
خود کو خدا کے سامنے لایا نہیں کبھی
زاہد خان
No comments:
Post a Comment