پہلے برائے وصل دریچے بنائے تھے
پھر قصہ گو نے خود وہیں پہرے لگائے تھے
کچھ تتلیوں نے پھُول کی تسکین کے لیے
اک باغباں سے اپنے مراسم بڑھائے تھے
میں داستاں کا آخری حصہ ہوں، مجھ کو پڑھ
اور یہ سمجھ کہ کس لیے، طوفان آئے تھے
میرا کمال دیکھیے، شوقِ زوال میں
میں نے خود اپنے واسطے، پتھر اٹھائے تھے
گاؤں کی ناریاں نہیں سمجھیں ارے دِلا
پانی میں بہتے پھُول جو پیغام لائے تھے
تڑپا رہا تھا رات کے ہونٹوں کا لمس بھی
اور صبح کے سفر نے بھی تارے دکھائے تھے
عالم ابھی بھی نیند سے جاگا نہیں وہ شخص
جس نے ہماری آنکھ سے سپنے چُرائے تھے
رضوان عالم
No comments:
Post a Comment