اسے عنوان کیا دینا
الاؤ جل رہے تھے اور عکسِ آتشِ خونیں
کسی بدمست ناگن کی طرح
بھیگی ہوئی بے چین آنکھوں
زرد سے چہروں پہ لہراتا، لپکتا تھا
سفر کتنے نجانے نامکمل تھے
ہر اک رستے پہ صد ہا مضطرب قدموں کی سنگت میں
کئی سہمی ہوئی جانوں کی بھگدڑ تھی
اور اس انبوہِ بدحالاں کے رقصِ بے بسی پر
بدنما چہرے
کہیں چُھپ کر نقابوں میں
تمسخر کی ہنسی ہنستے ہوئے محوِ نظارہ تھے
طمنچوں کے کُھلے، تاریک، پُر ہیبت دہانوں سے
سُلگتے قہقہوں کے جُھنڈ
اپنی گُونج کے جھوٹے تکبر کے نشے میں
سنسناتے
آسماں کی سمت اُڑتے تھے
وہ تیغیں
جن کے پہرے لاکھ ناکارہ سہی، لیکن
جو پہرے کی علامت تھیں
سو وہ بھی جا چُھپی تھیں بے نیازی کے نیاموں میں
در و دیوار بے پہرہ
گھر و بازار بے پہرہ
اور ان سب سے کہیں بڑھ کر
ہر اک کم ظرف، ابن الوقت کا کردار بے پہرہ
یہی کردار تھے سارے
دُھوئیں کی اوٹ لے کر جو
قبائے آدمیت سے نکل آئے
عجب سے دست و بازو تھے
خود اپنے ہی بدن کو زخم دیتے
نوچتے، تاراج کرتے تھے
قیامت کا فسانہ تھا
نہیں، شاید ابھی قُربِ قیامت کا زمانہ تھا
یہی یاجوج تھے، ماجوج تھے
جن کی زبانیں، رال ٹپکاتی ہوئی
دیوار و در کو چاٹ کر مسمار کرتی تھیں
زبانیں مال سے، زر سے لپٹ کر
جیسے اپنے آپ کو سرشار کرتی تھیں
سمندر سے پہاڑوں تک
اسی تمثیلِ وحشت کی نمائش تھی
یہ خود کردار تھے
اور خود مصنف، خود تماشائی
یہی سارے غلامانِ صدائے نفسِ امارہ
مصور تھے
جو اپنا فن
زمیں کے صاف چہرے پر
ہوس کے ںاخنوں سے نقش کرتے اور اس کے بعد
اپنے ہی بنائے ان نشانوں، شاہکاروں کو
غم و غصے کے شعلوں کی، دھوئیں کی
آڑ میں خود ہی چُھپاتے تھے
یہ خود سوزی جو رُک سکتی
یہ انگارے جو بُجھ سکتے
تو ان وحشت زدہ، بے خواب آنکھوں کی قسم ہے
دل سبھی آنسو لُٹاتے، خون رو جاتے
الاؤ جل رہے تھے جب زمیں کی گود میں ہر سُو
کہو پھر رات کے جاگے
کہاں سر رکھ کے سو جاتے
بہزاد برہم
No comments:
Post a Comment