Friday, 2 July 2021

کس نے چھیڑا ہے راگ پانی میں

 کس نے چھیڑا ہے راگ پانی میں

رقص کرتی ہے آگ پانی میں

اس سہاگن کی بے بسی دیکھو

جس کا ڈوبا سہاگ پانی میں

آئینے کو ہی کر دیا دھندلا

جیسے ہو کوئی جھاگ پانی میں

خود تو چلتا رہا کناروں پر

مجھ کو کہتا ہے بھاگ پانی میں

بچ کے رہنا ذرا سمندر سے

چھپ کے بیٹھا ہے ناگ پانی میں


عرباض عرضی

No comments:

Post a Comment