کس نے چھیڑا ہے راگ پانی میں
رقص کرتی ہے آگ پانی میں
اس سہاگن کی بے بسی دیکھو
جس کا ڈوبا سہاگ پانی میں
آئینے کو ہی کر دیا دھندلا
جیسے ہو کوئی جھاگ پانی میں
خود تو چلتا رہا کناروں پر
مجھ کو کہتا ہے بھاگ پانی میں
بچ کے رہنا ذرا سمندر سے
چھپ کے بیٹھا ہے ناگ پانی میں
عرباض عرضی
No comments:
Post a Comment