Friday, 2 July 2021

اس عشق کے ہاتھوں کوئی آزار ہوا ہے

 اس عشق کے ہاتھوں کوئی آزار ہُوا ہے

یہ دل، کبھی مندر، کبھی دربار ہوا ہے

ہم لاکھ حسیں تجھ سے مگر جانِ غزل دیکھ

دل تجھ پہ ہی مرنے کا طلبگار ہوا ہے

آنکھوں کے دریچے میں کبھی جھانک کے دیکھو

اک چبھتا ہوا غم ہی مِرا یار ہوا ہے

اک دید کا طالب تھا کسی آنکھ کا پانی

اک دِید کی خاطر کوئی بیمار ہوا ہے

پھر جرمِ وفا سے اسے ہم روک نہ پائے

دل جس کا ہوا ہے سنو! اک بار ہوا ہے

بس اشکوں کی چھاؤں میں پناہ مجھ کو ملی ہے

ہر راستہ میرا سدا پُر خار ہوا ہے

مٹی کے گھروندے میں کوئی ٹوٹ گِرا ہے

کل شب جو محبت سے ہی بے زار ہوا ہے

حالات کی جنگوں نے یہ الفت ہی مٹا دی

ہر شخص رقابت کا خریدار ہوا ہے

بُجھتی ہوئی آنکھوں میں عزادار تھے رستے

اس غم میں سمندر بھی گرفتار ہوا ہے


وشال سحر

No comments:

Post a Comment