بہتر تھا دل لگ جاتا ویرانی سے
مشکل اور بڑھی ہے نقل مکانی سے
ساگر کے اُس پار جو سورج ڈُوبا ہے
آگ نکل کر آ سکتی ہے پانی سے
بس اس بات کا ڈر ہے تجھ کو کھو دوں گا
اور کچھ خوف نہیں ہے یار کہانی سے
پھر میں تم سے دل کی باتیں کر لوں گا
پہلے پسینہ پونچھ تو لوں پیشانی سے
میں تو میں تھا پھر کیوں میری صورت کو
آئینے نے دیکھا ہے حیرانی سے
فیض محمد شیخ
No comments:
Post a Comment