Friday, 2 July 2021

بہتر تھا دل لگ جاتا ویرانی سے

 بہتر تھا دل لگ جاتا ویرانی سے

مشکل اور بڑھی ہے نقل مکانی سے

ساگر کے اُس پار جو سورج ڈُوبا ہے

آگ نکل کر آ سکتی ہے پانی سے

بس اس بات کا ڈر ہے تجھ کو کھو دوں گا

اور کچھ خوف نہیں ہے یار کہانی سے

پھر میں تم سے دل کی باتیں کر لوں گا

پہلے پسینہ پونچھ تو لوں پیشانی سے

میں تو میں تھا پھر کیوں میری صورت کو

آئینے نے دیکھا ہے حیرانی سے


فیض محمد شیخ

No comments:

Post a Comment