مجھ کو آواز سی آتی ہے صنم خانوں سے
یہ مجھے کون بلاتا ہے بیابانوں سے
اس نے اک بار مِرے ہاتھ پہ بس ہاتھ رکھا
روشنی پھُوٹ پڑی جسم کے دالانوں سے
آخری بار سہی، مجھ کو لگا سینے سے
دیکھ پھولوں نے چلے جانا ہے گلدانوں سے
سننے والوں کی یہ خواہش تھی کہ آوازیں ہوں
پھر میں چیخی تو ہوئے بہرے سبھی کانوں سے
عشق میں ایک خسارہ ہی بہت ہوتا ہے
اس میں بھرپائی نہیں ہوتی ہے تاوانوں سے
دیکھ تُو سر کو سہولت سے مِری گود میں دھر
یار! یہ بوجھ اُٹھانے کا نہیں شانوں سے
دُکھ اگر ہے بھی تو بہتر ہے اسے رد کر دے
تھوڑا ماحول کو رنگین بنا گانوں سے
مقدس ملک
No comments:
Post a Comment