گرتے ہوئے مکان کے ملبے کا دُکھ سمجھ
جاں سے گزرتے اپنے پرائے کا دکھ سمجھ
فکرِ معاش بھی ہے ضروری مگر اے دوست
کمرے میں لٹکے پنکھے سے لاشے کا دکھ سمجھ
دُھتکارنا ہے خیر ہے دُھتکار لے مجھے
لیکن تو میرے ہاتھ میں کاسے کا دکھ سمجھ
کس نے کہا ہے تجھ سے کہ رو لے مِرے حضور
کس نے کہا ہے تُو مِرے نوحے کا دکھ سمجھ
تجھ کو کسی سے پیار ہوا یا نہیں ہوا
لیکن تُو میرے شعر کے مصرعے کا دکھ سمجھ
تجھ پر عیاں نہیں ہوا، اچھا نہیں ہوا
لیکن گماں نہ کر تُو خرابے کا دکھ سمجھ
زاہد خان
No comments:
Post a Comment